29 اگست 2020 - 17:58
عزاداروں پر تشدد وبائی زنجیر توڑنے کا کوئی قابل قبول طریقہ نہیں:انجمن شرعی شیعیان

انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے موجودہ عالمی وبائی صورت حال میں محرم الحرام کی تقریبات سے متعلق حکومتی پالیسی میں واضح تضاد کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وبائی زنجیر توڑنے کے نام پر عزاداروں پر پولیس کا تشدد مسلے کا حل نہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے موجودہ عالمی وبائی صورت حال میں محرم الحرام کی تقریبات سے متعلق حکومتی پالیسی میں واضح تضاد کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وبائی زنجیر توڑنے کے نام پر عزاداروں پر پولیس کا تشدد مسلے کا حل نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ انجمن شرعی شیعیان نے وبائی صورت حال میں مراسم عزاداری کی انجام دہی کے دوران طبی ماہرین اور مراجع کرام کی طرف سے جاری کردہ ہدایات و احکامات کی روشنی میں تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ محرم تقریبات کا فیصلہ کیا اور مجالس عزا کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے  تاہم ابتدائے محرم میں شہر سرینگر میں چند چھوٹے جلوس عزا برآمد کئے گئے جہاں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مشاہدہ کیا گیا جس کے بعد تنظیم اس نتیجے پر پہنچی کہ دسیوں ہزار عزاداروں پر مشتمل جلوس عزا میں احتیاطی تدابیر خارج از امکان ہے۔

ترجمان نے کہا کہ محرم جلوسوں پر پابندی کے حکومتی حکم نامے کے بعد انجمن شرعی شیعیان نے تمام پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی فیصلے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے انسانی صحت و سلامتی کو ترجیع دے کر اپنی حکمت عملی کا اعلان کیا اور تنظیم اپنے اس فیصلے پر کار بند ہے لیکن ریاستی انتظامیہ نے حالیہ ایام کے دوران اپنی محرم پالیسی میں تضاد کا مظاہرہ کرکے عزاداروں کو ابہام و انتشار میں مبتلا کیا جس کے بعد چند ایک مقامات پر عزاداری کے چند چھوٹے جلوسوں پر پولیس تشدد کی کاروایاں عمل میں آئی ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ رویہ نہایت افسوس ناک ہے  جس سے یہی اخذ کیا جا رہا ہے ایک طرف وبائی صورت حال کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کی جا رہی ہے  اور دوسری طرف  جب کسی جگہ پر لوگ از خود عزاداری کا جلوس برآمد کرتے ہیں تو پولیس تشدد سے افرا تفری پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے SOPکی خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں  حکومت کی متضاد پالیسی سے وبائی زنجیر توڑنے کے بجائے اس کے مزید پھیلاو کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

 ترجمان نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی پالیسی کئی دہایوں سے جاری ہے ترجمان نے کہا کہ پولیس کچھ مقامات پر عزاداروں کو جلوس برآمد کرنے اور کچھ مقامات پر سختی سے قدغن لگا کر انتظامیہ کے متضاد اور دوہرے معیار کی عکاسی کر رہی ہے  ترجمان نے بمنہ سرینگر میں عزاداری کے جلوس پر پولیس تشدد کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ترجمان نے انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی 13ماہ سے جاری مسلسل خانہ نظر بندی کے خلاف شدیدردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے اس پرزور مطالبے کے باوجود کہ آغا صاحب کو ایام محرم کے دوران مرکزی امام باڑہ بڈگام میں مجلس عزا میں شرکت کی اجازت دی جائے موصوف کو عاشورہ محرم کو بھی صرف ایک شب کی مجلس عزا میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی انتظامیہ کا یہ طرز عمل مذہبی آزادی پر قدغن اور عوام کے دینی جذبات کی بدترین توہین و تذلیل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲